تحریر: مولانا عقیل رضا ترابی
حوزہ نیوز ایجنسی| حضرت علی اکبرؑ کی ولادتِ باسعادت نہ صرف اہلِ بیتؑ سے محبت رکھنے والے دلوں کے لیے مسرت و شادمانی کا پیغام ہے بلکہ بالخصوص نوجوان نسل کے لیے یہ دن ایک عظیم فکری اور اخلاقی یاد دہانی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ولادت درحقیقت اس پاکیزہ کردار کی ولادت ہے جو میدانِ کربلا میں ایمان، وفاداری، شجاعت اور اطاعتِ امام کا کامل نمونہ بن کر تاریخِ انسانیت کے افق پر ہمیشہ کے لیے روشن ہو گیا۔
حضرت علی اکبرؑ امام حسینؑ کے فرزندِ ارجمند تھے، مگر آپؑ کی شخصیت صرف ایک خانوادگی نسبت تک محدود نہیں تھی۔ آپؑ سیرت، گفتار اور کردار میں رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ سے اس قدر مشابہ تھے کہ امام حسینؑ خود فرمایا کرتے تھے کہ جب ہمیں رسولِ اکرم کی زیارت کا شوق ہوتا تو ہم علی اکبرؑ کے چہرۂ انور کی طرف نگاہ کر لیتے تھے۔ یہ مشابہت محض ظاہری نہ تھی بلکہ اخلاق، حلم، وقار اور روحانی عظمت میں بھی آپؑ ایک زندہ نمونہ تھے۔
نوجوانی عام طور پر جذبات کی تیزی، خواہشات کی فراوانی اور مستقبل کی الجھنوں کا زمانہ سمجھی جاتی ہے، مگر حضرت علی اکبرؑ نے اسی عمر میں ایمان کی پختگی، فکر کی بلندی اور مقصدِ حیات کی وضاحت کا وہ معیار قائم کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں جب جان قربان کرنے کا وقت آیا تو آپؑ نے نہ کسی تذبذب کا اظہار کیا اور نہ کسی ذاتی مصلحت کو راہ دی، بلکہ پوری بصیرت اور قلبی اطمینان کے ساتھ امامِ وقت کی اطاعت کو اپنی زندگی کا آخری اور سب سے بڑا سرمایہ بنا لیا۔
حضرت علی اکبرؑ کی زندگی کا سب سے نمایاں پیغام یہی ہے کہ جوانی اگر ولایتِ حق سے جڑ جائے تو وہ محض عمر کا ایک مرحلہ نہیں رہتی بلکہ امت کی تقدیر بدلنے والی قوت بن جاتی ہے۔ آپؑ نے عملاً یہ ثابت کر دیا کہ جوانی کی اصل زیب و زینت طاقت، شہرت یا دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ حق کے ساتھ کھڑا ہونا اور باطل کے مقابلے میں استقامت دکھانا ہے۔
کربلا میں حضرت علی اکبرؑ کا میدان میں جانا درحقیقت ایک جوان کا نہیں بلکہ ایک فکر کا میدان میں اترنا تھا۔ یہ اس سوچ کا اظہار تھا جو امامِ وقت کے حکم کو ہر ذاتی خواہش پر مقدم رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کی شہادت، امام حسینؑ کے لیے صرف ایک فرزند کی جدائی نہیں تھی بلکہ امت کے نوجوانوں کے لیے ایک دائمی پیغام بھی تھی کہ قیادتِ الٰہی کے بغیر کوئی قربانی مکمل نہیں ہوتی۔
آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہا ہے جہاں فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور شناخت کا بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مادّہ پرستی، سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا اور مغربی طرزِ فکر نے نوجوان ذہن کو مقصد سے دور اور خواہشات کے قریب کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں حضرت علی اکبرؑ کی سیرت نوجوانوں کے لیے محض ایک تاریخی داستان نہیں بلکہ ایک زندہ فکری رہنمائی ہے، جو یہ سکھاتی ہے کہ وقار، حیا، جرأت اور ذمہ داری ہی جوانی کا اصل تعارف ہیں۔
حضرت علی اکبرؑ کی اطاعتِ امام درحقیقت شعوری اطاعت تھی۔ یہ اندھی تقلید نہیں بلکہ حق کی پہچان کے بعد حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو جعفری فکر میں ولایت کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے۔ ولایتِ امام انسان کو فکری گمراہی سے بچاتی ہے اور اس کے عمل کو الٰہی مقصد سے جوڑ دیتی ہے۔ حضرت علی اکبرؑ اسی شعورِ ولایت کی عملی تصویر ہیں۔
اسی لیے حضرت علی اکبرؑ کی ولادت کو بجا طور پر "جوانوں کی عیدِ مسعود" کہا جاتا ہے۔ یہ دن دراصل نوجوانوں کے لیے خوشی کے ساتھ ساتھ عہد کی تجدید کا دن ہے؛ عہدِ وفاداری، عہدِ دیانت اور عہدِ اطاعتِ امام۔ یہ ولادت نوجوان دلوں کو یہ یاد دلاتی ہے کہ اگر زندگی حسینؑ کے راستے پر صرف ہو جائے تو جوانی فنا نہیں ہوتی بلکہ تاریخ بن جاتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت علی اکبرؑ کی ولادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ایک مومن نوجوان کی اصل کامیابی دنیا میں پہچان بنانا نہیں بلکہ حق کے قافلے میں شامل ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ولادت صرف ایک تاریخی خوشی نہیں، بلکہ ہر دور کے نوجوان کے لیے بیداری کی صدا ہے اور حقیقتاً جوانوں کی عیدِ مسعود ہے۔









آپ کا تبصرہ